ٹھیک تو کوئی بھی ہو سکتا ہے

افسانے بہت سے ہیں اور بھی لیکن اپنی کہانی آپ خود بناتے ہو. کسی کی ذندگی کو دیکھ کر مائل ہونا کوئی بری بات نہیں ہے لیکن اس کے جیسی  ذندگی کی آرزو رکھنا غلط ہے خود کے ساتھ اور ان کے ساتھ بھی جو آپکی سے وابستہ ہیں .آپکی سوچ کا بھنور ہی آپکو ایسی جگہ ڈوبو دیتا ہے کے آپ چاہ کر بھی نہیں نکل سکتے .

وہ سیاہ حصّہ سب میں موجود ہوتا ہے. کچھ پہچان جاتے ہیں اور کچھ کی ساری ذندگی بیت جاتی ہے کبھی نہیں ڈھونڈھ پاتے. فاصلے بڑھ جاتے ہیں، انسان قدر کھونے لگتا ہے، رشتے کمزور ہونا شروع ہوجاتے ہیں .بہت تکلیف دیتا ہوگا کسی کا بدل جانا، آپ محض ایک اجنبی کی حیثیت پر آجاتے ہو . کوئی بھی شکار ہو سکتا ہے اسکا ، ہو سکتا ہے کہ آپ بھی ہو، “میں بھی ہوں”. مجھے خوشی اس بات کی ہے کہ  میں وقت پر اس حصّے کو پہچان گئی ہوں. جب آپ کے ساتھ بیتتی ہے تو ہی آپکو اس بات کا احساس ہوتا ہے کے کسی دوسرے کو کیا محسوس ہوتا ہوگا . میں خود کو سمجھا سکتی ہوں کے میں کہاں غلط ہوں ‘ٹھیک تو کوئی بھی ہو سکتا ہے’. اپنی غلطی قبول کرنا بہت ہمّت کی بات ہے؛ مانا مینے ! آپ صرف احساس کرلو وہ ہی قابلے غنیمت ہے.

ذندگی بہت چھوٹی ہے وقت بہت کم ہے، چیزوں کی اہمیت رشتوں کی قدر نا کھو جائے، روک دو اس سوچ کے بھنور کو ، مت پھیلنے دو اس سیاہ حصّے کی دہشت کو . تکلیف سبکو ہوتی ہے. بولتا کوئی کوئی ہے.

Advertisements

One thought on “ٹھیک تو کوئی بھی ہو سکتا ہے

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s