ابھی تو تم کچی کلی تھے

واپس آجاؤ کے تمھاری ماں رو رو بُلاتی ہے

کہتی ہے کہ:

ابھی تو تم کچی کلی تھے

ابھی تو تمھیں گود سے اُتارا تھا

ابھی تو تمھیں چلنا سکھایا تھا

رنگوں کو ذندگی میں بھرنا سکھایا تھا

لال رنگ ہی کیوں چُن لیا تم نے

کلیاں تو اور بھی رنگوں سی ہیں

ابھی تو تم کچی کلی تھے

میرے چمن کا پھول تھے تم

کیوں ویراں چھوڑ گۓ تم

سب سے منہ موڑ گۓ تم

اپنی ماں کو روتا چھوڑ گۓ تم

اُٹھو کے وہ کہتی ہے:

کون مجھے ستاۓ گا

سکول سے واپس آکر ‘امّی’ کون چلاۓ گا

اُٹھو دیکھو ‘عثمان’ اور ‘میسم’ آیا ہے

اپنے ساتھ آوروں کو بھی لایا ہے

اِن کو یوں رولاؤ ناں – یوں منہ موڑ کر جاؤ ناں

بہن تمھاری بلاتی ہے – ایسے اس کو ستاؤ ناں

ابّو انتظار کر رہے ہیں

گھر کب آؤ گے پوچھ رہے ہیں

آج عید ہے جلدی گھر آجانا

مامو،چچّا سب پوچھ رہے ہیں

خالہ، پھوپھی سب دیکھ رہے ہیں

سّنو دیکھو بھائی کی بات مان کر جانا

رات بہت ہے دیر سے متّ آنا

بڑی مرادوں سے میں نے مانگا ہے تمھیں

دیکھو اب بندھ بھی کرو مجھکو رولانہ

ابھی تو تم کچی کلی تھے

میرے چمن کا پھول تھے تم

نام: امیر ہمزہ

تاریخ وفات: September/3/2017 عید الاضحیٰ کا دُوسرا دن

میرے چھوٹے بھائی عثمان کا بہت ہی قریبی دوست جو ایک خوفناک کار ایکسیڈنٹ کے بعد زخموں کی تاب نا لاتے ہوۓ راستے میں ہی دم توڑ گیا۔

عثمان ساری ذندگی بکرا عید کو دوبارہ خوشی سے نہیں منا سکے گا۔ عثمان کےساتھ ساتھ ہم سب کو اتنا ہی غم ہے جتنا میرے بھائی کو ہے۔ پچھلے 4/5 ماہ میں یہ کوئی دوسری موت ہے عثمان کے دوست کی۔ میں سوچتی ہوں کہ 15/16 سال کی عمر میں مجھے پتہ تک نہیں تھا کے اپنے کسی قریبی کی موت کا غم کیا ہوتا ہے۔ بس اتنی چھوٹی سی ذندگی لکھوا کر لایا تھا یہ پھول۔

ہم آج کل کی نسل بس اتنا جانتے ہیں کے میں نے دوسرے دوست سے بڑا ریکارڈ کیسے بنانا ہے۔ قانون کی خلاف ورزی تو ہمارے گھر سے ہی شروع ہو جاتی ہے۔ لڑکا 13 سال کا ہوا نہیں کے اسکو موٹرسائیکل اور گاڑی کی چابی تھما دی جاتی ہے۔ اب یہ امّی اور باجی کو بازار لے جایا کرے گا۔

میری گزارش ہے اُن ماں باپ سے جو اپنے بچے کی ہر ضِد پوری کرنا اپنا فرض سمجھتے ہیں کہ خُدارا ان کو کم عمر میں کسی بھی قسم کی ڈرائیونگ کرنے نا دیں۔ نا ہی اُن دوستوں اور کزنوں کے ساتھ گھومنے کی اِجازت دیں جو اپنے ساتھ ساتھ ان سب لوگوں کی جان کے دشمن ہیں جو انکی ذندگی سے جُڑے ہیں۔

میں مانتی ہوں کہ ذندگی موت اللّہ صبحان و تعلہ کی امانت ہے، لیکن ہر ناجائز چیز کی پابندی کے آپ خد زمہ دار ہیں۔ قانون سب کے لیۓ ایک ہے اور اسکی سمجھ گھر سے شروع ہوتی ہے۔ اللّہ صبحان و تعلہ امیر ہمزہ کی بخشش اور مغفرت قبول فرمائیں اور اس بچے کے تحت اس کے خان دان کی بخشش فرمائیں۔ اس کے والدین کے ساتھ ہر دوست کو صبر عطّا فرمائیں۔

آمین ثم آمین

-Husna Aftab

Advertisements

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out /  Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out /  Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out /  Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out /  Change )

w

Connecting to %s