وقت

کبھی کبھی بیٹھے بیٹھے ایسا وقت یاد آجاتا ہے جس کی لکیریں آج بھی دماغ کے اُن خُلیوں سے جُڑی ہیں کہ اگر وقت رک بھی جائے تو شاید زندگی انتظار کے ترازو میں پھنس سی جائے۔ وقت کی پھسلتی ریت کی طرح یادیں یوں گھٹ سی گئیں ہیں یوں مانو کہ جیسے برسات کی بارش کے بعد ساری فضّا اپنی تمام رعنایوں کے باوجود میرے ساتھ ساتھ تھم سی گئی ہے۔

بچپن کی اٹھکھیلیاں کب اپنے نّنھےگدلے پیروں سے جوانی کی اُس سمت میں قدم رکھ دیں گی جہاں ذمہ داریاں اور پریشانیاں ہی میری ہمجولیاں بن کر رہ جائیں گی۔ سکون کی تلاش اتنی لمبی ہو جائے گی کے واپسی کا سفر نا طے ہو پائے گا۔

بچپن میں ‘شیر آیا شیر آیا‘ کی کہانی سن کر ایک سبق ملتا تھا اور آج ذندگی انسانوں کے جنگل کا ایسے شکار ہو گئی ہے جیسے واقعی شیر نے شکار کر لیا ہو کیوں کے اعلان کرنے والا تو کب کا سو چکا۔۔۔

Advertisements

7 thoughts on “وقت

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out /  Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out /  Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out /  Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out /  Change )

Connecting to %s